نیپالی فوج کے سربراہ اشوک راج سگدل کی جنریشن زیڈ کے احتجاجات پر پُرامن مکالمے کی اپیل

اشوک راج سگڈیل نیپالی فوج کے سربراہ ہیں۔ وہ ایک اہم شخصیت ہیں جنہوں نے نیپال میں سیاسی بحران کے دوران اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ جب سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی نے فوج سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مدد مانگی، تو اشوک راج سگڈیل نے دو ٹوک جواب دیا کہ “ہیلی کاپٹر صرف استعفے کے بعد ملے گا”
کٹھمنڈو — نیپالی فوج کے سربراہ جنرل اشوک راج سگدل نے حالیہ جنریشن زیڈ (Gen Z) کی قیادت میں ہونے والے احتجاجات کے حوالے سے قائم تحقیقاتی کمیشن کے سامنے اپنا باضابطہ بیان ریکارڈ کرایا ہے، جس میں انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے تشدد کے بجائے پُرامن مکالمے اور بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک ان احتجاجات کی وجوہات، نوعیت اور اثرات پر سنجیدہ غور و فکر کر رہا ہے، جنہوں نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی اور حکمرانی، سلامتی اور نوجوانوں کے جمہوری کردار سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا۔
اشوک راج سگڈیل نیپالی فوج کے سربراہ ہیں۔ وہ ایک اہم شخصیت ہیں جنہوں نے نیپال میں سیاسی بحران کے دوران اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ جب سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی نے فوج سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مدد مانگی، تو اشوک راج سگڈیل نے دو ٹوک جواب دیا کہ “ہیلی کاپٹر صرف استعفے کے بعد ملے گا”
جنریشن زیڈ کے احتجاجات کے مقاصدکیاہے؟

جنریشن زیڈ کے یہ احتجاجات زیادہ تر نوجوانوں کی جانب سے شفافیت، جواب دہی اور اصلاحات کے مطالبات پر مبنی تھے، جو تیزی سے بڑے شہری مراکز تک پھیل گئے۔ اگرچہ متعدد مظاہرے ابتدا میں پُرامن تھے، تاہم بعض واقعات میں صورتحال کشیدہ ہو گئی، جس سے عوامی تحفظ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردِعمل اور سکیورٹی اداروں کے کردار پر خدشات پیدا ہوئے۔ انہی حالات کے پیش نظر حکومت نے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تاکہ واقعات کی مکمل چھان بین کی جا سکے، ذمہ داری کا تعین ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کی جا سکیں۔
تحقیقاتی کمیشن کو جنرل اشوک نے بیان میں کیا کہا؟
کمیشن کے روبرو اپنے بیان میں جنرل اشوک راج سگدل نے اس بات پر زور دیا کہ شکایات اور مطالبات کے حل کے لیے مکالمہ اور باہمی افہام و تفہیم سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے بالخصوص نوجوان مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے ساتھ تعمیری انداز میں بات چیت کریں، نہ کہ ایسے اقدامات کریں جو بدامنی یا تشدد کا باعث بنیں۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے واضح کیا کہ نیپالی فوج آئین کے تحت پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتی ہے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
جنرل سگدل نے اپنے بیان میں شہری بے چینی کے دوران فوج کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نیپالی فوج مکمل طور پر آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرتی ہے اور صرف سول حکام کی درخواست پر کارروائی کرتی ہے، جس کا بنیادی مقصد امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوج کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا نہیں بلکہ قانون کی عمل داری کو یقینی بناتے ہوئے عوام کو کم سے کم نقصان سے بچانا ہے۔
جنریشن زیڈ کے احتجاجات پر تحقیقاتی کمیشن کا موقف؟
تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تفتیش کو صرف آرمی چیف کے بیان تک محدود نہیں رکھا۔ اس کے علاوہ کئی سینئر فوجی افسران، سکیورٹی اہلکاروں اور ان افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان واقعات سے منسلک تھے۔ ان بیانات میں احتجاجات کے دوران پیش آنے والے واقعات کی ترتیب، سکیورٹی اداروں کے فیصلوں، اداروں کے مابین رابطہ کاری اور ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔
تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ جانچنا بھی ہے کہ جہاں کہیں طاقت کا استعمال ہوا، آیا وہ متناسب تھا اور طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق تھا یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رابطہ کاری میں ممکنہ خامیوں، انٹیلی جنس جائزوں اور تیاری کی سطح کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جنہوں نے احتجاجات کی صورتحال پر اثر ڈالا۔ مختلف نقطۂ نظر کو سامنے لا کر کمیشن ایک جامع اور متوازن رپورٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
کمیشن کو واضح مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تشکیل کے تین ماہ کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے۔ قیام کے بعد سے کمیشن نے سکیورٹی حکام، احتجاج کے منتظمین، عینی شاہدین اور دیگر متعلقہ افراد سے بھرپور انداز میں پوچھ گچھ کی ہے۔ تحقیقات کی رفتار اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ مقررہ مدت میں مکمل حقائق سامنے لائے جائیں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

Strike Against ?
عوامی حلقوں میں اس کمیشن سے وابستہ توقعات خاصی بلند ہیں۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں، نوجوانوں کے گروہوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کی سفارشات محض رسمی نہ ہوں بلکہ حقیقی اصلاحات کا باعث بنیں۔ بہت سے مبصرین کے مطابق یہ احتجاجات نوجوانوں میں بے روزگاری، طرزِ حکمرانی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت نہ ہونے کے احساس کی عکاسی کرتے ہیں۔
جنرل اشوک راج سگدل کی جانب سے مکالمے کی اپیل کو بعض حلقوں نے کشیدگی کم کرنے اور مفاہمت کی جانب مثبت قدم قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر جنریشن زیڈ کے تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے پُرامن بات چیت کو فروغ دیا جائے تو نوجوانوں اور ریاستی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے خلا کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ مکالمے کے ساتھ ساتھ ٹھوس پالیسی اقدامات بھی ناگزیر ہیں تاکہ عدم اطمینان کی بنیادی وجوہات کا ازالہ کیا جا سکے۔
جیسے جیسے کمیشن اپنی تحقیقات کو آگے بڑھا رہا ہے، پوری قوم اس کی رپورٹ اور سفارشات کی منتظر ہے۔ یہ نتائج مستقبل میں احتجاجات سے نمٹنے، سول و عسکری تعلقات اور نوجوانوں کی شمولیت سے متعلق پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ آیا یہ رپورٹ جواب دہی، ادارہ جاتی اصلاحات یا مکالمے کے نئے راستے کھولتی ہے، یہی اس بات کا تعین کرے گا کہ ملک اس دور کی بے چینی سے کس حد تک آگے بڑھ پاتا ہے۔
وسیع تر تناظر میں، جنریشن زیڈ کے احتجاجات اور ان پر ہونے والی تحقیقات نیپال کی جمہوریت کے لیے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ریاست کا ردِعمل چاہے وہ شفافیت، اصلاحات یا پُرامن اختلافِ رائے کے احترام کی صورت میں ہوآنے والی نسل کے ریاستی اداروں اور جمہوری عمل پر اعتماد کی بنیاد رکھے گا۔

Online apply
kis k lea online apply karni hy
Constable
C1 lower Course